حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشن گوئیاں مکمل سطریں📜

اسلام کی 1400 سالہ تاریخ میں مدینے کے بعد پاکستان دوسری ریاست ہے جو اسلام کے نام پر بنی ہے۔ لیکن مدینے سے مماثلت کا معاملہ صرف یہیں تک محدود نہیں ! پاکستان کو بھی اس وقت دنیا کی سب سے بڑی مشرک (بت پرست) ریاست انڈیا سے خطرہ ہے جس کی مدد اسرائیل یعنی یہودی کر رہے ہیں۔ مدینے کی مشرکوں کے خلاف تین بڑی جنگیں ہوئیں اور چوتھی جنگ فیصلہ کن تھی جس میں مکے کو فتح کر لیا گیا تھا۔ پاکستان کی مشرکوں ( انڈیا ) کے ساتھ اب تک تین بڑی جنگیں ہو چکی ہیں۔ چوتھی جنگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فیصلہ کن ہو گی۔ دونوں کے نام کا مفہوم بھی ایک ہی ہے۔ پاکستان کا مطلب ہے ” پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ ” ۔ مدینہ کو پہلے مدینہ النبی اور بعد میں مدینہ طیبہ کہا جانے لگا جس کا مطلب ہے ” پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ”

💢اب نعمت اللہ شاہ ولی کی پیشن گوئیوں کے حوالے سے ایک چھوٹا سا واقعہ

📜نعمت اللہ شاہ کی پیشن گوئیوں کو سن کر ایک 25 سال کا جوان 1857ء کی جنگ آزادی میں شریک ہوا ۔ وہ فتح کے لیے پر امید تھا لیکن اسی جنگ کے دوران اس نوجوان کو ایک بزرگ ملے اور اس سے کہا کہ ” تم کو جس فتح کی خوشخبری دی گئی تھی یہ وہ نہیں ہے اس میں ابھی 90 سال باقی ہیں ۔ ایک ملک بنے گا جو عالم اسلام کا مرکز بنے گا اور تم اس کو دیکھو گے۔


یہ سن کر وہ نوجوان جنگ چھوڑ کر چلا گیا اور انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ ٹھیک 90 سال بعد پاکستان بنا ۔ وہ پھر بھی زندہ رہا اور جب اسلام آباد بنا تب وہ 160 سال کی عمر میں فوت ہوا اور اسلام آباد کے ایچ 8 قبرستان میں دفن ہوا ۔ جہاں اسکی قبر کی تختی پر اس معاملے کا ذکر بھی ہے۔ ان کی قبر قدرت اللہ شہاب کی قبر کے نزدیک ہے۔ قبر پر ان کا نام عبداللہ محبوب لکھا ہوا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ شخص حضرت مہاجر مکی تھے۔ (واللہ اعلم)

💢پاک بھارت جنگ 850 سال پہلے حضرت نعمت اللہ شاہ کی📜 پیشن گوئیاں

💢حضرت نعمت اللہ شاہ کا تعلق ایران سے تھا اور آج سے 850 سال پہلے اُنہوں نے اپنے فارسی اشعار میں دُنیا کے متعلق بہت سے پیش گوئیاں کیں اور اُن کی پیش گوئیوں کی سچائیوں نے دور حاضر میں اہل دانش کو ورطہ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔

💢نعمت اللہ شاہ صاحب کے اشعار جن میں انہوں نے آنے والے وقت کے متعلق بتایا ہے کی تعداد 2000 سے زیادہ ہے اس آرٹیکل میں ہم نعمت اللہ شاہ صاحب کے اُن اشعار کو شامل کر رہے ہیں جن میں انہوں نے ہندوستان پاک و ہند کے متعلق پیش گوئیاں کیں جن میں سے بہت سی ماضی میں پوری ہو گئیں اور باقی مستقبل میں پُوری ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔



💢ماضی میں پُوری ہونے والی چند اہم پیش گوئیاں👇👇👇

《راست گوئیم بادشاہ در جہاں پیدا شود》 《نام او تیمور شاہ صاحبقراں پیدا شود》 ترجمہ (میں سچ بتاتا ہوں دُنیا میں ایک بادشاہ پیدا ہوگا جس کا نام تیمور شاہ ہو گا اور وہ صاحب قرآن ہو گا) تاریخ جانتی ہے کہ نعمت اللہ شاہ نے یہ پیش گوئی 850 سال پہلے کی اور پھر اہل دانش نے دیکھا کے 1398ء میں یعنی پیش گوئی کے کئی سال بعد امیر تیمور شاہ نے ہندوستان پر حملہ کیا اور محمد تغلق کو شکست دی اور اپنی بادشاہت قائم کی۔

《شاہ بابر بعد ازاں در ملک کابل بادشاہ》 《پس بہ دہلی والئی ہندوستاں پیدا شود》 ترجمہ (اس کے بعد کابل کا بادشاہ بابر دہلی میں ہندوستان کی والی اور بادشاہ بنے گا) اہل دانش ورطہ حیرت میں ہیں کے نعمت شاہ صاحب بابر کے ہندوستان پر حملے کے 350 سال پہلے اُسے اُس کے نام سے جانتے تھے۔

《باز نوبت از ہمایوں از رسد ذوالجلال》 《ہم دراں افغاں یکے از آسماں پیدا شود》 ترجمہ (پھر پروردگار ذولجلال کی طرف سے بادشاہی ہمایوں کو ملے گی اور پھر افغانستان سے شیر خان ظاہر ہو گا۔ یہ پیش گوئی بھی من و عن پوری ہو گئی اور دُنیا نے دیکھا کے شیر شاہ سوری نے ہمایوں کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔

《دلمیان ملک پنجابش شود شہرت تمام》 《قوم سکھانش مرید و پیرآں پیدا شود》 ترجمہ (ملک پنجاب کے درمیان میں اُسے شہرت ملے گی اور سکھوں کی قوم اُس کی مرید ہو جائے گی) یہ پیش گوئی 1441 میں پُوری ہوئی اور بابا گُرو نانک پیدا ہوئے جو سکھوں کے پہلے گُرو ہیں جن کا انتقال 1538 میں ہُوا۔

《قوم سکھانش چیرہ دستی ہاکند در مسلمین》 《تا چہل ایں جورہ بدعت اندر آں پیدا شود》 ترجمہ (سکھ قوم مسلمان قوم پر ظلم و ستم کرے گی اور یہ سلسلہ 40 سال تک جاری رہے گا)

《بعد ازاں گیرد نصاری ملک ہندویاں تمام》 《تا صدی حکمش میاں ہندوستاں پیدا شود》 ترجمہ (اس کے بعد عیسائی ملک ہندوستان پر قبضہ کریں گے اور یہ قبضہ ایک سو سال تک جاری رہے گا) ہندوستان میں گوروں کی حکومت میں لارڈ کرزن جو ہندوستان کے وائسرائے تھے نے نعمت شاہ صاحب کی یہ پیش گوئی ہند میں بیان کرنا یہ کہہ کر ممنوع قرار دے دیا تھا کے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ برطانیہ ہندوستان پر صرف 100 سال حکومت کرے۔

《وا گزارند ہند را از خود مگر از مکرشاں》 《خلفشار جاں کسل در مرد ماں پیدا شود》 ترجمہ (پھر انگریز ہندوستان کو خود ہی چھوڑ کر چلے جائیں گے مگر اپنی چالاکی اور مکر سے لوگوں کے درمیان ایک جان لیوا جھگڑا چھوڑ جائیں گے۔) خطے کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اہل دانش کا کہنا ہے کہ یہ جھگڑا کشمیر کا تنازعہ ہے۔

《دو حصص چوں ہند گردد خون آدم شد رواں》 《شورش و فتنہ فزوں از گماں پیدا شود》 ترجمہ (ہندوستان جب دو ٹکڑے ہو گا تو انسانوں کو بےدریغ قتل کیا جائے گا اور فتنہ اور فساد کی کوئی انتہا نہیں ہو گی) برصغیر پاک و ہند کے قیام پر 2 ڈیڑھ ملین سے زیادہ لوگوں کا قتل ہُوا اور کئی ملین لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔

💢پاکستان بننے کے بعد کی چند اہم پیش گوئیاں👇👇👇

《نعرہ اسلام بلند شد بست وسہ ادوار چرغ》 《بعد ازاں بار و گریک قہر شاں پیدا شود》 ترجمہ (نعرہ اسلام 23 سال تک سر بُلند رہے گا اور پھر دوسری مرتبہ اُن پر قہر نازل ہو گا) 1947 سے 1971 تک پاکستان اور بنگلہ دیش ایک ہی ملک تھے اور پھر 1971 میں مشرقی پاکستان ہم سے جُدا ہو گیا۔

💢حال کے متعلق چند اہم پیش گوئیاں👇👇

《بنی تو قاضیاں رابر مسند جہالت》 《گیرند رشوت از خلق علامہ با بہانہ》 ترجمہ (قاضی (جج) جہالت کی مسند پر دیکھے گا اور بڑے بڑے علم والے لوگ بہانوں سے لوگوں سے رشوت لیں گے)

■اشتہار■

《گرد انگ از با رشوت در چنگ قاضی آری》 《چوں سگ پئے شکاری قاضی کند بہانہ》 ترجمہ (جج کو اگر چند سکے چاندی مٹھی میں رشوت دے گا تو قاضی شکاری کُتے کی طرح بہانے کرے گا) پاکستان کے موجودہ عدالتی نظام کو دیکھیں تو یہ پیش گوئی بالکل سچ ہے جسے پتہ نہیں نعمت شاہ صاحب نے 850 سال پہلے کیسے محسوس کیا۔

《از اہل حق نا بینی درآں زماں کسے را》 《دوزوان و رہزنے رابر سر نہند عمامہ》 ترجمہ ( ایسے وقت میں تو کسی کو اہل حق نہ دیکھے گا اور لوگ چوروں اور ڈاکووں کے سر پر دستار رکھیں گے ) پاکستانی سیاست دان جنہوں نے اس ملک کو لوٹ کھایا ہم دیکھتے ہیں لوگ اُن کے سروں پر دستار سجاتے ہیں۔

💢مستقبل کے متعلق چند اہم پیش گوئیاں👇👇

《اندر نمازباشند غافل ہمہ مسلماں》 《عالم اسیر شہوت ایں طور درجہانہ》 《روزہ نماز طاعت یکدم شوند غائب》 《در حلقہ مناجات تسبیح از ریانہ》 ترجمہ (مسلمان نماز سے غافل ہو جائیں گے اور شہوت کے قیدی بن جائیں گے اور دنیا میں ایسا ہی ہو گا، روزہ نماز اور احکام ایک دم غائب ہو جائیں گے اور مناجات کی محفلوں میں ریاکارانہ ذکر و اذکار ہو گا)

《بعد آں شود چوں شورش در ملک ہند پیدا》 《فتنہ فساد برپا بر ارض مشرکانہ》 ترجمہ (اس کے بعد ہندوستاں میں ایک شورش ظاہر ہوگی اور مشرکانہ سرزمین پر فتنہ اور فساد برپا ہو جائے گا)

《درحین خلفشارے قومے کہ بت پرستاں》 《بر کلمہ گویاں جابراز قہر ہندوانہ》 ترجمہ (اس خلفشار کے وقت پر بت پرست کلمہ گو مسلمانوں پر اپنے ہندوانہ قہر و غضب کے ذریعے جابر ہوں گے) یہ دو اشعار اگر حال کے آئینے میں دیکھے جائیں تو پلوامہ کی دہشت گردی اور ہندوستان کا جاہرانہ رویہ یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ یہ اشعار نعمت اللہ شاہ صاحب نے اسی وقت کے لیے لکھے ہیں اور اگر ایسا ہی ہے تو پھر ہندوستان پاکستان پر حملے سے باز نہیں رہے گا۔ مسلمانوں کا جو حال اب ہندوستان میں ہے وہ واضح ہے۔

《بحر صانت خود از سمت کج شمالی》 《آید برائے فتح امداد غائبانہ》 ترجمہ (مدد کے لیے شمال و مشرق سے غائبانہ امداد آئے گی)

《آلات حرب و لشکر در کار جنگ ماہر》 《باشد صہیم مومن بے حد و بیکرانہ》 ترجمہ (جنگی ہتھیاروں سے لیس ماہر جنگی حکمت عملی والا لشکر آئے گا جس سے مسلمانوں کو زبردست قوت ملے گی)

《عثمان عرب و فارس ہم مومنان اوسط》 《از جذبہ اعانت ائیند والہانہ》 ترجمہ (عرب، تُرک، ایران اور مشرق وسطی والے امداد کے جذبے سے دیوانہ وار آئیں گے)

《اعراب نیز ائیند از کوہ دشت و ہاموں》 《سیلاب اتشیں شد از ہر طرف روانہ》 ترجمہ (پہاڑوں بیابانوں کی طرف سے اعراب آئیں گے اور آگ کا سیلاب ہر طرف رواں دواں ہو گا)

《چترال نانگا پربت باسین ملک گلگت》 《پس ہائے ملک ہائے تبت گیر نار جنگ آنا》 ترجمہ (چترال نانگا پربت چین اور گلگت ساتھ ملیں گے لڑنے کے لیے اور تبت کا علاقہ میدان جنگ بنے گا)



《یکجا شوند عثمان ہم چینیاں و ایران》 《فتح کند ایناں گل ہند غازیانہ》 ترجمہ (ترکی چین اور ایران اکھٹے ہو جائیں گے اور ہندوستان کو غازیانہ فتح کر لیں گے )

《غلبہ کنند ہمچوں مورد ملخ شباشب》 《حقا کہ قوم مسلم گروند فاتحانہ》 ترجمہ (یہ چیونٹیوں اور مکڑیوں کی طرح راتوں رات میں غلبہ حاصل کریں گے اور میں قسم کھاتا ہوں کے مسلمان قوم فاتح ہو گی۔)

《بعد از فریضد حج پیش از نماز فطرہ》 《از دست رفتہ گیرند از ضبط غاصبانہ》 ترجمہ (فریضہ حج کے بعد اور نماز عید سے پہلے ہاتھ سے نکلے ہوئے علاقوں کو واپس حاصل کر لیا جائے گا جو غاصبانہ قبضے کی زد میں آئے تھے )

《رود اٹک نہ سہ بار از خون اہل کفار》 《پر مے شودبہ یکبار جریان جاریانہ》 ترجمہ (دریائے اٹک کا پانی تین بار کافروں کے خون سے بھر کر جاری ہوگا)

《پنجاب شہر لاہور کشمیر ملک منصور》 《دو آب شہر بجنور گیرند غالبانہ》 ترجمہ (شہر لاہور پنجاب کشمیر دریائے گنگا اور جمنا کا علاقہ اور بجنور شہر پر مسلمان غالبانہ قبضہ کریں گے۔) دریائے اٹک کا تین بار دشمن کے خون سے بھر کر جاری ہونا اور ان علاقوں پر مسلمانوں کا قبضہ ہونے کی پیش گوئی سے مسلمانوں کی فتح کی طرف نشاندہی کی گئی ہے۔ ان شاہ اللہ عزوجل

《ای غزوہ تابہ شش ماہ پیوستہ ہم بشر با》 《مسلم بفضل اللہ گروند فاتحانہ》 ترجمہ (یہ لڑائی چھ ماہ تک جاری رہے گی اور مسلمان اللہ کے فضل سے فتح سے ہمکنار ہوں گے) حضرت کی آگ کے سیلاب کی پیش گوئی سے لگتا ہے کہ ہندوستان ایٹمی جنگ ضرور چھیڑے گا اور اس شعر میں مسلمانوں کی فتح کی نوید ہے ماشااللہ، اللہ پاک پاکستان اور پاکستانیوں کو بھارت کے شر سے محفوظ رکھے Copied

481 views

Follow Us on Instagram:

Find Us On
  • Facebook - White Circle
  • YouTube - White Circle
  • Instagram - White Circle
@giveme5dotco/

©2020 All Rights Reserved.
giveme5.tv

Donate us:

Tel: 0335-5379937